اڈپی ، 11 / اگست (ایس او نیوز) اڈپی تعلقہ میں ملپے کے قریب ہُوڈے میں کل صبح کے وقت اسکول جانے کے لئے تیار کھڑی بچی پر آوارہ کتوں کا ایک جھنڈ حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھا، مگر بچی نے اپنے ہاتھ میں موجود چھتری کو دفاعی انداز میں لہراتے ہوئے گھر کی طرف بھاگ کر اپنی جان بچائی ۔
سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئے ویڈیو کلپ میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ صبح کے وقت سنسان پڑے رہائشی علاقے میں اپنی اسکول بس کا انتظار کر رہی بچی کے سامنے اچانک آوارہ کتوں کا جھنڈ آتا ہے اور غراتے ہوئے لڑکی کی طرف آگے بڑھتا ہے جسے دیکھنے کے ساتھ ہی لڑکی اپنے ہاتھ میں موجود بند چھتری لہراتی اور چیختی ہوئی اپنے گھر کی طرف دوڑ لگائی ہے ۔
اس کلپ کے وائرل ہونے کے بعد بچوں پر بڑھتے ہوئے آوارہ کتوں کے حملے اور پھیل رہی دہشت کے خلاف عوام کی طرف سے تشویش اور غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے اور پنچایت سے اس کی روک تھام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔
اس واقعے کے سلسلے میں گرام پنچایت افسران سے بات چیت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ''کتوں کو پکڑ کر انہیں مارنے کا اختیار گرام پنچایت کو نہیں ہے ۔ قانون کے مطابق سال میں صرف ایک بار آوارہ کتوں کو پکڑ کر ان کی نس بندی کا آپریشن کرنے اور اینٹی ریبیس ویکسین لگانے کے بعد جس جگہ سے پکڑا گیا تھا وہیں چھوڑنا ہوتا ہے ۔ مگر سب سے بڑا اور پیچیدہ مسئلہ آوارہ کتوں کو پکڑنے کا ہوتا ہے ۔ اسی کے ساتھ کتوں کو پکڑنے کے بعد جی پی ایس فوٹو نکالنا ہوتا ہے اور نس بندی آپریشن کرنے کے بعد جہاں سے پکڑا گیا تھا وہاں چھوڑنے کا بھی جی پی ایس فوٹو اتارنا ہوتا ہے ۔"
اس کا مطلب یہ ہوا کہ آوارہ کتوں سے چھٹکارا پانے کے لئے سرکاری اور قانونی طور پر راستہ آسان نہیں ہے، چاہے اس سے انسانی جانوں اور معصوم بچوں کو کتنا ہی خطرہ کیوں نہ ہو ۔ انسانوں سے زیادہ کتوں کی حفاظت اور ان کے حقوق کی پاسداری کو اہمیت دی جا رہی ہے ۔